ابنا: تہران ميں علما اور اسلامي بيداري کے زيرعنوان دو روزہ اجلاس ميں دنيا کے سات سو علما اور عمائدين شريک ہيں جس کا افتتاح پير کو قائد انقلاب اسلامي کے خطاب سے ہوا۔قائد انقلاب اسلامي نے اپنے اہم خطاب ميں عظيم اسلامي بيداري کي لہر کي مختلف زاويوں سے تشريح کرتے ہوئے فرمايا کہ اسلامي بيداري ايک حقيقت ہے جو عظيم اسلامي تمدن کا راستہ ہموار کرسکتي ہے۔ قائد انقلاب اسلامي نے شمالي افريقہ ميں اسلامي بيداري کو لاحق ممکنہ خطرات کا بھي ذکر کرتے ہوئے فرمايا کہ اسلامي اصولوں پر ثابت قدمي اور ميدان عمل ميں عوام کي موجودگي دو اہم اور کليدي عوامل ہيں جو دشمنوں کي سازشوں اور ہتھکنڈوں کو ناکام بناسکتے ہيں۔تقريب مذاہب اسلامي اسمبلي کے سربراہ آيت اللہ محسن اراکي نے بھي اس اجلاس ميں اسلامي بيداري ميں علما کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے اس تحريک کے نقطہ آغاز کو اسلامي انقلاب کا مرہون منت قرارديا اور کہا کہ حاليہ تحريکوں کے دوران علما نے آمر و ظالم حکمرانوں کے ظلم و ستم کو بيان کرکے عوام کو ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور حالات کو تبديل کرنے کا حوصلہ عطا کيا۔آيت اللہ اراکي نے اسي طرح اسلامي بيداري کے مستقبل کے بارے ميں کہاکہ اس ميں دورائے نہيں کہ اسلامي بيداري کي تحريک اور لہر جاري رہے گي اور رفتہ رفتہ اس ميں شامل ہوجانے والے دوغلے عناصر کي بھي شناخت کرلي جائے گي اور ان کو نکال باہر کرديا جائے گا۔علما اور اسلامي بيداري کے عالمي اجلاس کے سکريٹري حجت الاسلام کريميان نے بھي اپنے خطاب ميں کہا کہ اجلاس کے ايجنڈے ميں تقريبا ستر موضوعات کو شامل کيا گيا ہے۔ جناب کريميان نے اسي طرح شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے علما کي ايک کميٹي تشکيل ديئے جانے کے اقدام کو مفيد قرارديتے ہوئے کہاکہ اگر اجلاس ميں شريک علما شام کے مسئلے کے حل کے لئے علمائے دين پر مشتمل ايک رابطہ گروپ تشکيل دينے کي تجويز ديں تو اس کا خير مقدم کيا جائے گا۔روس کے مفتيوں کي کونسل کے سربراہ روايل عين الدين نے بھي اس اجلاس کو عالم اسلام کا ايک بڑا واقعہ قرارديا اور کہا کہ آج امت اسلاميہ کو ہر طرح کے اختلاف اور تفرقے سے بچنے کي بہت زيادہ ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کي ہے کہ امت اسلاميہ اتحاد اور بھائي چارے کي جانب ٹھوس قدم اٹھائے- روس کے مفتي اعظم نے کہا کہ عالم اسلام سے باہر سے جوبرائياں اور بداخلاقياں امت مسلمہ ميں پيدا کي جارہي ہيں ان سے اجتناب ضروري ہے۔روس کے مرکزي علاقے کے علما کي کونسل کے سربراہ طلعت تاج الدين نے بھي اپني تقرير ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران، اسلامي تمدن کے شاندار ماضي اور حال کے حامل ہونے کي بدولت اس ہدف تک پہنچنے ميں اہم کردار ادا کرسکتا ہے -افغانستان کے بزرگ اور ممتاز عالم دين آيت اللہ محمد آصف محسني نے بھي اس اجلاس ميں تقريرکرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کے درميان اتحاد و يکجہتي سے تسلط پسندوں اور سامراجي طاقتوں کي سازشوں کو ناکام بنايا جاسکتا ہے- انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو بڑي طاقتوں سے نہيں ڈرنا چاہئے-حزب اللہ لبنان کے ڈپٹي سکريٹري جنرل شيخ نعيم قاسم نے بھي اجلاس کے دوسرے دن اپنے خطاب ميں کہاکہ صيہوني حکومت مسلمانوں اور پوري انسانيت کےلئے بڑا خطرہ ہے- انہوں نے صہيوني حکومت کو تمام مشکلات و مسائل کي جڑ قرار ديا -حزب اللہ لبنان کے ڈپٹي سکريٹري جنرل اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ غاصب صيہوني حکومت بہت بڑي آفت و مشکل ہے کہا کہ اسلامي مزاحمتي قوتوں کے خلاف دھمکيوں اور جنگ کي زبان کا استعمال کرنا صيہوني حکومت کو کوئي فائدہ نہيں پہنچا سکتا کيونکہ مزاحمتي قوت ہر وقت مقابلے کے لئے تيار ہے- انہوں نے کہا کہ اسلامي بيداري کي لہر جاري ہے اور وہ پورے علاقے کو اپني لپيٹ ميں لے لے گي - ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
29 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 414580
علماء اور اسلامي بيداري کے زير عنوان عالمي کانفرنس ميں شريک علماء اور نمائندوں نے ماہرين کے چھے الگ الگ اجلاس ميں اسلامي بيداري اور عالم اسلام سے مربوط مسائل و مشکلات اور چيلنجوں کا جائزہ ليا -